سیالکوٹ میں پاکستان تحریکِ انصاف کے جلسے کی جگہ پر تنازعہ، جلسہ گاہ کا مقام تبدیل کر دیا گیا

دن بھر کی ہنگامہ آرائی اور ضلعی انتظامیہ و مسیحی برادری کی طرف سے سی ٹی آئی گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت نہ دینے کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت نے آج سیالکوٹ میں ہونے والے اپنے جلسے کا مقام تبدیل کر لیا ہے۔

دن بھر کی ہنگامہ آرائی اور ضلعی انتظامیہ و مسیحی برادری کی طرف سے سی ٹی آئی گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت نہ دینے کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت نے آج سیالکوٹ میں ہونے والے اپنے جلسے کا مقام اب تبدیل کر لیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما شفقت محمود نے سیالکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب جلسہ سی ٹی آئی گراؤنڈ میں نہیں بلکہ وی آئی پی گراؤنڈ میں ہو گا جو عثمان ڈار کی فیکٹری سے ملحقہ گراؤنڈ ہے۔

جلسے کا وقت شام پانچ بجے ہی ہو گا جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان شام چھ بجے جلسہ گاہ پہنچیں گے اور کارکنوں سے خطاب کریں گے۔

شفقت محمود نے الزام لگایا کہ کہ پولیس نے پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ آصف کے کہنے پر تشدد کیا۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ڈپٹی کمشنر فوری طور پر عثمان ڈار سمیت گرفتار کیے گئے تمام کارکنوں کو رہا کریں ورنہ ہم احتجاج کی طرف آئیں گے۔

یاد رہے اس سے قبل سیالکوٹ میں تحریک انصاف کے جلسے کی جگہ کے تنازعہ پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جلسے کے انتظامات کو رکوا دیا۔

ضلعی انتظامیہ نے چرچ کی ملکیتی جگہ پر جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف سٹیج اکھاڑ دیا بلکہ پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار سمیت متعدد کارکنوں کو بھی حراست میں لیا۔

چرچ کی جگہ تنازعہ کی بنیاد

تحریک انصاف جس جگہ پر جلسہ کروانا چاہتی تھی وہ مسیحی برادری کی ایک چرچ کی ملکیت ہے جس سے ملحقہ سی ٹی آئی سکول بھی ہے۔

پی ٹی آئی نے جب اس گراؤنڈ میں 14 مئی کو جلسہ کرنے کا اعلان کیا تو کرسچن ٹرسٹ کی جگہ پر جلسہ روکنے کے لیے ٹرسٹ کے ارکان نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی جس کے بعد عدالت نے ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کو اس معاملے کو نمٹانے کا حکم دیا تھا۔

مسیحی برادری نے سی ٹی آئی گرائونڈ میں زبردستی جلسے کے انعقاد کی کوشش پر سیالکوٹ اور لاہور میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔

سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حسن اقبال کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران پی ٹی آئی کی مقامی قیادت نے یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ اس جگہ پر جلسہ نہیں کریں گے لیکن اس کے باوجود ٹرسٹ کی جگہ پر جلسے کے انتظامات کیے گئے۔

ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ عمران قریشی کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو تین متبادل جگہوں کی آفر دیں جن میں سٹیڈیم اور مرے کالج کا گراؤنڈ شامل ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا کہ وہ ان میں سے کسی ایک جگہ پر جلسہ کے انعقاد کے لیے درخواست دے دیں تو اسے منظور کرلیا جائے گا لیکن مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے مقامی قائدین نہ مانے اور بضد رہے کہ وہ سی ٹی آئی گراؤنڈ میں ہی جلسہ کریں گے۔

جلسہ رکوانے کے لیے پولیس کی کارروائی

ضلعی انتظامیہ اور پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے مابین بات نہ بننے کے بعد پی ٹی آئی نے چرچ کی جگہ پر ہی سٹیج بنانا شروع کر دیا جس کے بعد آج صبح پولیس کی بھاری نفری نے جلسہ گاہ پر دھاوا بول دیا۔

سیالکوٹ پولیس کی جانب سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور شیلنگ کی گئی، پولیس اہلکاروں نے سٹیجسمیت دیگر تنصیبات بھی اکھاڑ ڈالیں ہیں۔

پنڈال کو اکھاڑنے کے لیے جب بلدیہ اور محکمہ ہائی وے کی مشینری گراؤنڈ میں پہنچی تو عثمان ڈار و دیگر مقامی رہنما احتجاجاً اس کے سامنے لیٹ گئے جس پر پولیس اہلکاروں نے احتجاج کرنے والوں کو حراست میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی آئی کا پشاور جلسہ: ’انتظام ہوتا تو شاید لوگوں کی تعداد کہیں زیادہ ہوتی‘

مسلم لیگ ن کی قیادت لندن میں: فیصلہ سازی میں نواز شریف کا ممکنہ کردار پاکستان میں زیرِبحث

پولیس کی طرف سے شیلنگ کے باعث کارکنان گراؤنڈ سے منتشر ہو گئے جو کہ بعد ازاں کچہری چوک میں جمع ہوئے جہاں انھوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔

سیالکوٹ پولیس کا کہنا ہے کہ نقص امن کے تحت عثمان ڈار، ان کے بھائی عمر ڈار، صاحبزادہ حامد رضا، سعید بھلی سمیت کچھ کارکنانکو حراست میں لیا گیا۔

ضلعی انتظامیہ کا مؤقف

ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ عمران قریشی کا کہنا ہے کہ جلسہ گاہ کے بارے میں پی ٹی آٸی کی مقامی قیادت کو متبادل جگہ کے انتخاب کا کہا تھا۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ انھوں نے کل پی ٹی آئی کے قاٸدین اور مسیحی برادری کے افراد کو ہاٸیکورٹ کی ہدایت پر سنا تھا، پی ٹی آئی کے قاٸدین نے مسیحی برادری کی گراٶنڈ کی ملکیت کو تسلیم کر کے جلسے کی اجازت مانگی لیکن مسیحی برادری نے سیاسی جماعت کے قاٸدین کو گراٶنڈ دینے سے انکار کیا۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ جلسہ کرنا سب کا آٸینی و قانونی حق ہے لیکن کسی بھی اقلیت کی ملکیتی جگہ پر بغیر اجازت جلسہ کرنا مناسب نہیں، کل کوٸی اور فریق یا گروہ بھی ادھر آ کر جلسہ کر سکتا تھا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حسن اقبال کا کہنا ہے کہ ہم نے پہلے آ کر قاٸدین سے مذاکرات کی کوشش کی بعد ازاں وینڈرز نے خود ہی اپنا سامان اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار نے پولیس حراست سے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’صرف ایک دن پہلے ہمیں کہا کہ آپ یہاں جلسہ نہ کریں اور اپنا سامان اٹھا لیں، ہم گھبرانے والے نہیں، ہم ڈٹے ہوئے ہیں، ہمیں جیلوں میں ڈال دیں، حقیقی آزادی کی تحریک چل کر رہے گی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ سیالکوٹ کے تمام کارکن آج گھروں سے باہر نکلیں۔ ’عمران خان آج سیالکوٹ آئیں گے، یہ لوگ ہمیں جیلوں میں ڈال دیں، پرامن جلسہ کرنا ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے۔‘

پی ٹی آئی کے رہنما فرخ حبیب نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے دس روز پہلے جلسے کی اجازت مانگی تھی، گذشتہ رات ہمیں کہا گیا کہ آپ یہاں جلسہ نہیں کر سکتے، مسلم لیگ نون نے ہمیشہ مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیبکا کہنا ہے کہ عوام ان نا اہلوں کو سننے اور اپنی جگہ دینے کو تیار نہیں۔

’پی ٹی آئی قیادت کو چاہیے کہ وہ مسیحی برادری کے جذبات کا احترام کرے، یہ چاہتے ہیں کہ رانا ثنا اللہ پرائیویٹ جگہ پر ان کا جلسہ زبردستی کروائیں، عوام اگر نجی جگہ دینے کو تیار نہیں تو اس میں رانا ثنا اللہ کا کیا قصور ہے۔‘

آخر سی ٹی آئی گراؤنڈ ہی کیوں؟

سیالکوٹ کے اندرون شہر سی ٹی آئی چرچ اور اس سے ملحقہ سکول اور گراؤنڈ ہے، یہ جگہ لاری اڈے اور ضلع کچہری کے قریب ترین ہے اور اگر یہاں جلسہ ہوتا ہے تو کارکنوں کے لیے پہنچنا آسان ہے۔

مسلم لیگ نون کے ایک مقامی رہنما چودھری نصیر کا کہنا ہے کہ سٹیڈیم اور مرے کالج کے گراؤنڈ بڑے ہیں جنھیں بھرنا مشکل ٹاسک ہے، اس کے برعکس سی ٹی آئی گراؤنڈ اتنا بڑا نہیں اور یہاں اندرون شہر سے پیدل بھی لوگ آسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی مقامی قیادت بضد ہے کہ وہ یہاں جلسہ کرے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.